ملائیشین ایئر لائنز کا گمشدہ طیارہ مسافروں کے ڈھانچوں سمیت مل گیا۔



برطانوی اخبار کے مطابق  ملائیشیا  کےایک شہری نے ملائیشین پولیس کو فون کرکے بتایا کہ اس کی ایک خاتون رشتہ دار جو کہ  فلپائنی جزیرے سگبے کے گھنے جنگل میں  دیگر افراد کے ساتھ پرندوں کےشکار کی غرض سے موجود تھیں انہوں تباہ شدہ جہاز کو دیکھا ہے۔ خاتون کے مطابق وہ جہاز کے تباہ شدہ ڈھانچے کے اندر بھی گئی تھیں جہاں انہوں نے بہت سارے انسانی ڈھانچے اور ہڈیاں دیکھیں جب کہ وہاں انہوں نے ملائیشیا کا قومی پرچم بھی دیکھا تھا جو کہ 70 انچ لمبا اور 35 انچ چوڑا تھا۔
مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ پائلٹ کی سیٹ پر اب بھی ایک ڈھانچہ موجود ہے جس کے گرد سیٹ بیلٹ موجود ہے اور سر کے پاس ایک کمیونیکیشن آلہ بھی ہے۔جہاز کا ملبہ ملنے کے بعد خیال کیا جارہا ہے کہ یہ ملائیشین ایئرلائنز کی پرواز ایم ایچ 370 کا ہے جو کہ ڈیڑھ سال قبل ملائیشیا کے دارالحکومت  کوالالمپور سے چین کے شہر بیجنگ جاتے ہوئے لاپتا ہوگیا تھا جب کہ اس جہاز میں کل 239 افراد سوار تھے جن میں سے اکثریت کا تعلق چین سے تھا۔
لاپتا جہاز کی تلاش کے لیے مختلف ممالک نے کوششیں کی تاہم کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوسکا البتہ اس حوالے سے متعدد افواہیں نت نئے دعوے ضرور سامنے آتے رہے، 2 ماہ قبل  بحرِ ہند سے تقریباً 4 ہزار  کلو میٹر دور ری یونین کے ساحل سے ایک جہازکا پر ملا تھا جس کے متعلق فرانسیسی ماہرین نے تصدیق کی تھی کہ یہ پر ایم ایچ 370 کا ہی ہے تاہم اس کے بعد جہاز کا مزید کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا یہی وجہ ہے کہ پولیس حکام  فلپائنی جزیرے میں ایم ایچ 370کے ملبے کی موجودگی کے حوالے سے کوئی دعویٰ کرنے سے ہچکچا رہے ہیں کیوں کہ یہ ناممکن نظر آتا ہے کہ جہاز کا ایک پر4 ہزار کلومیٹر دور بہہ کر ری یونین کے ساحل پر پہنچ جائے جب کہ راستے میں انڈونیشیااور ملائیشیا بھی آتے ہیں یہاں  اس بات کا بھی امکان ہے کہ زمین پر گرنےسے قبل ہی جہاز کا پر علیحدہ ہوکر دور چلا گیا ہو۔
فلپائنی میڈیا کا کہنا ہے کہ جہاز کے ملبے کی تلاش کے لیے نیوی کے اہلکاروں کی ایک ٹیم مذکورہ علاقے میں بھیجی گئی تھی تاہم انہیں اس متعلق کوئی نئی اطلاع نہیں مل سکی اور نہ ہی مچھیروں اور مقامی دیہاتیوں کو اس متعلق کوئی اطلاعات ہیں اس لیے فی الحال تمام تحقیقات کا دارومدار ملائیشین شہری اور خاتون کے بیان پر ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے زائد کے عرصے میں مختلف ممالک کے طیارے اور بحری جہاز سمندر میں ایم ایچ 370 کے کسی بھی قسم کے شواہد تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں سوائے ایک ٹوٹے ہوئے پر کے جو 4 ہزار کلومیٹر دور ری یونین کے ساحل پر پڑا ملا تھا۔
Share on Google Plus

About Unknown

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment