ایسی حقیقت سامنے آ گئی کہ پوری دنیا حیران رہ گئی
شام میں برسرپیکار شدت پسند تنظیم داعش کے پاس ٹویوٹاکمپنی کی گاڑیوں کی موجودگی دنیا کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی تھی کہ اس کے پاس اتنی بڑی تعداد میں یہ گاڑیاں کیسے اور کہاں سے آتی ہیں۔ امریکی تحقیقاتی ایجنسیاں معاملے کی تحقیقات بھی کر رہی ہیں لیکن اے بی سی نیوز نے اپنے ایک آرٹیکل میں یہ معمہ حل کر دیا ہے۔ آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ امریکی ایجنسیاں ٹویوٹا کمپنی سے پوچھ گچھ کر رہی ہیں کہ ان کی گاڑیاں داعش کے پاس کیسے پہنچیں۔ حالانکہ امریکی ایجنسیوں کو اتنا سفرطے کرکے ٹویوٹا سے سوالات کرنے کی بجائے اپنے ہی گھر (امریکہ)میں
تحقیقات کرنی چاہئیں۔
آرٹیکل میں امریکہ کی دوغلی پالیسی اور غلط بیانی سے پردہ ہٹاتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ گزشتہ سال خبریں آ رہی تھیں کہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ شام میں ٹویوٹا کی گاڑیوں کی کھیپ بھیج رہا ہے جو سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق”آزاد شامی فوج“ (Free Syrian Army)کو دی جا رہی ہیں۔2014ءمیں امریکی فاﺅنڈیشن کے فنڈز پر چلنے والے پبلک ریڈیو انٹرنیشنل (PRI)کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکہ فری شامی فوج اور طالبان کو دینے کے لیے جو سامان خرید رہا ہے اس میں
ٹویوٹا کی گاڑیاں سرفہرست ہیں۔
آرٹیکل میں بیان کیا گیا ہے کہ حال ہی میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے شامی باغیوں کو جو رسد فراہم کی ہے اس میں 43ٹویوٹا ٹرک بھی شامل تھے۔شامی باغیوں کی طرف سے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو Hiluxesگاڑیوں کی فرمائش بھی کی گئی تھی کیونکہ واشنگٹن میں مقیم شام کے قومی اتحاد کے
آرٹیکل میں بیان کیا گیا ہے کہ حال ہی میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے شامی باغیوں کو جو رسد فراہم کی ہے اس میں 43ٹویوٹا ٹرک بھی شامل تھے۔شامی باغیوں کی طرف سے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو Hiluxesگاڑیوں کی فرمائش بھی کی گئی تھی کیونکہ واشنگٹن میں مقیم شام کے قومی اتحاد کے
مشیر عبید شاہ بیندر بھی Hiluxesگاڑیاں بہت پسند کرتے ہیں۔
زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ داعش نے یہ گاڑیاں امریکا کے حامی باغیوں سے لوٹی ہیں۔آرٹیکل کے آخر میں امریکی ایجنسیوں کو دوبارہ مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ٹویوٹا کمپنی سے تحقیقات کرنے کی بجائے اپنے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے تحقیقات کریں، سارا معاملہ سامنے آ جائے گا ، کیونکہ داعش کے پاس موجود گاڑیاں و دیگر سامان کوئی اور نہیں بلکہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ہی فراہم
کر رہا ہے۔
0 comments:
Post a Comment